Hadith - سنن نسائی - بارش طلب کرنے کے احکام و مسائل

Hadith - سنن نسائی - بارش طلب کرنے کے احکام و مسائل

بارش طلب کرنے کے احکام و مسائل

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! چوپائے ہلاک ہو گئے، (اور پانی نہ ہونے سے) راستے (سفر) ٹھپ ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، تو جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی، تو پھر ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھر منہدم ہو گئے، راستے (سیلاب کی وجہ سے) کٹ گئے، اور جانور مر گئے، تو آپ نے دعا کی: <<اللہم على رءوس الجبال والآكام وبطون الأودية ومنابت الشجر>> "اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں، ٹیلوں، نالوں اور درختوں پر برسا" تو اسی وقت بادل مدینہ سے اس طرح چھٹ گئے جیسے کپڑا (اپنے پہننے والے سے اتار دینے پر الگ ہو جاتا ہے)۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری$1۴ ۱۰، ۱۸۲، ۱۹۴، ۲۴۵، ۲۶۱، ۲۷۱ ویأتی عند المؤلف بأرقام: ۱۵۱۶، ۱۵۱۹ (صحیح)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1504


Hadith No: 1505
باب: امام بارش کے لیے کب دعا کرے ؟

عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ (جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کی نماز پڑھنے کے لیے عید گاہ کی طرف نکلے۔ تو آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اور اپنی چادر پلٹی، اور دو رکعت نماز پڑھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کی غلطی ہے ۱؎ عبداللہ بن زید جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی وہ عبداللہ بن زید بن عبد ربہ ہیں، اور یہ جو استسقا کی حدیث روایت کر رہے ہیں عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری$1الصلاة ۱۸۸ (۱۵۷۴، ۱۵۷۵)، (تحفة الأشراف: ۵۲۹۷)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ۱۵۰۸، ۱۵۱۰، ۱۵۱۱، ۱۵۱۲، ۱۵۱۳، ۱۵۲۰، ۱۵۲۱، ۱۵۲۳ (صحیح)
وضاحت: ۱؎: یعنی سفیان بن عیینہ کا اس حدیث کے راوی کے بارے میں یہ کہنا کہ " انہیں کو خواب میں اذان دکھائی گئی " ان کا وہم ہے، اذان " عبداللہ بن زیدبن عبدربہ " کو دکھائی گئی، اور اس حدیث کے راوی کا نام " عبداللہ بن زید بن عاصم " ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1505


Hadith No: 1506
باب: امام کا استسقاء کے لیے عیدگاہ جانے کا بیان۔

اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ فلاں نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقاء کے بارے میں پوچھوں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (استسقاء کی نماز کے لیے) عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے پھٹے پرانے کپڑے میں نکلے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود$1۲۳۰، ۲۶۹، ۳۵۵، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ۱۵۰۹، ۱۵۲۲ (حسن)
وضاحت: ۱؎: بلکہ آپ کا خطبہ دعا و استغفار اور اللہ سے عاجزی اور گڑگڑانے پر مشتمل تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1506


Hadith No: 1507
باب: استسقاء کے لیے جب امام نکلے تو اس کی ہئیت کیسی ہو ؟

عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور آپ کے جسم مبارک پر ایک سیاہ چادر تھی۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۱۵۰۶ (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1507


Hadith No: 1508
باب: استسقاء کے لیے جب امام نکلے تو اس کی ہئیت کیسی ہو ؟

اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استسقاء کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے کپڑوں میں عاجزی اور گریہ وزاری کا اظہار کرتے ہوئے نکلے، اور منبر پر بیٹھے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ آپ برابر دعا اور عاجزی کرتے رہے، اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں لگے رہے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی جیسے آپ عیدین میں پڑھتے تھے۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۱۵۰۷ (حسن)
قال الشيخ الألباني: حسن
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1508


Hadith No: 1509
باب: بارش کی دعا کے لیے امام کے منبر پر بیٹھنے کا بیان۔

عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استسقاء کی نماز کے لیے نکلے تو آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری، اور دعا کی، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور قرآت کی تو بلند آواز سے قرآت کی۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۱۵۰۶ (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1509


Hadith No: 1510
باب: استسقاء میں دعا کے وقت امام کا اپنی پیٹھ لوگوں کی طرف پھیرنے کا بیان۔

عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور اپنی چادر پلٹی۔
تخریج دارالدعوہ: انظر رقم: ۱۵۰۶ (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1510


Hadith No: 1511
باب: استسقاء کے وقت امام کے چادر پلٹنے کا بیان۔

عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جائے نماز کی طرف) نکلے، تو آپ نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور جس وقت آپ قبلہ رخ ہوئے اپنی چادر پلٹی۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۱۵۰۶ (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1511


Hadith No: 1512
باب: امام کب اپنی چادر پلٹے ؟

عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو استسقاء میں دیکھا کہ آپ قبلہ رخ ہوئے، آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور (دعا مانگنے کے لیے) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۱۵۰۶ (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1512


Hadith No: 1513
باب: :(استسقاء کے لیے دعا مانگتے وقت ) امام کے ہاتھ اٹھانے کا بیان۔

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے استسقاء کے اپنے دونوں ہاتھ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے، آپ اس میں اپنے دونوں ہاتھ اتنا بلند کرتے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری$1الصلاة ۱۸۹ (۱۵۷۶) (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1513


Hadith No: 1514
باب: استسقاء میں ہاتھ کیسے اٹھائے ؟